کڑوا بہت ہے گھونٹ یہ جیون کے جام کا
ساقی شراب دے تو محبت کے نام کا
پیمانے سے پلا، کہ نگاہوں کے جام دے
وہ انتظام کر کہ فرشتے بھی نام لے
ہم رندوں کو صراحی کی زرکاری مت دکھا
دینا ہے جام اگر تو محبت سے بس پلا
ہو سرخ یا گلابی کہ چاہے سفید ہو
مقدار کی مگر نہ یہاں کوئی قید ہو
ہو دو پہر کہ شام ہو یا رات کا سماں
چلتا رہے یوں ہی نشہِ مے کا سلسلہ
پیالوں میں یوں اُنڈیل دے مے کی روانیاں
آ جاۓرگ میں شیشے کی رنگیں جوانیاں
اتنی شراب دے کہ چھلک جاۓ پیالے سے
پیاسی زمیں کی پیاس بھی باقی نہ اب رہے
پیمانہ گر نہیں تو پلا دے تو اوک سے
چشمِ سیہ کے پیالے سے ابرو کی نوک سے
دنیا کی الجھنوں نے کیا ایسا حال ہے
ہر سانس امتحان ہر اک پل سوال ہے
ہم نے سنا ہے تیری ہی اک ایسی بزم ہے
جس میں رواجِ رعب نہ ہیبت کی رسم ہے
میخانے میں ہم آئے ہیں بےحال و بد حواس
لےکر نگاہ و دل میں شرابِ سکوں کی پیاس
تو نے ملائی تھی جو مے کل کاری میں مری
بھر دے وہی شراب تو بیزاری میں مری
دل ڈھونڈھتا ہے پھر وہی معصوم سی ہنسی
ممتا کی وہ حسین مے شفقت کی وہ لڑی
جنت میں جائیں گے کہ جہنم میں جائیں گے
لیکن یہ رند تیرے ہی گن گاۓ جائیں گے

0