"ہماری شان باقی ہے، ہمارا نام باقی ہے"
کرم سے تیرے یا رب، عزت و اکرام باقی ہے
امانت تو نے جو بخشی تھی، ہم نے سب لٹا دی ہے
جو صورت تو نے دی واں پر رخِ اصنام باقی ہے
بڑی الفت سے روز و شب، کو تو روشن کرایا تھا
نہ اب وہ صبح باقی ہے، نہ اب وہ شام باقی ہے
رکھائی عشق پر تھی، تو نے بنیادِ عمل لیکن
یہاں نسِّ صحیفوں میں، پھنسا اسلام باقی ہے
ہوئی ہیں دور تجھ سے، اور تیرے دین سے قومیں
دكھانا کونسا یا رب، ابھی انجام باقی ہے
رہے اہلِ نظر باقی، رہے نہ اہلِ دل باقی
دلوں میں ذاتِ باقی پر، جو استفہام باقی ہے
ذکؔی امید باندھے ہے، کرم فرمائے گا تو ہی
تو جس سے کام لے لے، شاید ایسا کام باقی ہے

0
2