پیار میں جب دو دل بچھڑتے ہیں
ٹوٹ کے کیسے وہ بکھرتے ہیں
مفلسی نے بے حال کر چھوڑا
"لوگ ہر سُو یہاں پہ مرتے ہیں"
اشک جو چشم سے نکلتے ہیں
سوئی تقدیر کو سنورتے ہیں
کان دھرنا نہیں ہے طعنوں پر
اپنے حاسد تو طنز کستے ہیں
نقطہ چیں بنتے ہیں تہی دامن
منتشر ہوتے جو الجھتے ہیں
جانفشانی سے بازی جیتیں ہم
حق سے محروم ہوں، جو ڈرتے ہیں
داد و تحسین ہو اُنہیں ناصؔر
شکوے رہ کر گلے بھی ملتے ہیں

35