وقارِ بزم دو عالم وہ بن کے آئے ہیں
حضور شمع ہدایت ہی بن کے آئے ہیں
مٹانے دہر سے اب تیرگیِ ظلم و ستم
وہ بن کے نور خدا انجمن کے آئے ہیں
فضائے دہر میں خوشیاں چہار سو بکھریں
وہ لے کے مژدہ بہارِ چمن کے آئے ہیں
کوئی بھی ثانی نہیں ہے حضورؐ اکرم کا
وہ تاجِ ختمِ نبوت پہن کے آئے ہیں
اشارے سے ترے سورج بھی لوٹ آتا ہے
وہ شاہ بزم زمین و گگن کے آئے ہیں
مفر دُکھوں سے ملے گا جہانِ فانی کو
وہ چارہ ساز دل و جان و تن کے آئے ہیں
بنایا خالقِ اکبر نے بے مثال جنہیں
وہ شاہِ حُسن سراپا بدن کے آئے ہیں
ملے گی نعت کی برکت سے اب ہمیں وہ شفا
وہ چارہ ساز دلِ پُر شکن کے آئے ہیں
درِ حضور پہ پر شوق نعتیں لکھئے گل
جو بن کے روحِ بہارِ سخن کے آئے ہیں

0
1