ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے
تاجِ سر بنتے ہیں سَیّاروں کے
ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم
خِلْعَتِ زر بنیں پُشتاروں کے
میرے آقا کا وہ در ہے جس پر
ماتھے گھس جاتے ہیں سرداروں کے

0
12