چومنے کے ہی باب ہیں دونوں
ہونٹ بالکل گلاب ہیں دونوں
آنکھیں دیتی ہیں دعوتِ مے کشی
ملحدانِ نقاب ہیں دونوں
گوشہِ گل کی نازکی ہائے
لعل و گوہر کے خواب ہیں دونوں
جان لے لے نہ سینۂ سیمیں
دل پہ اک اک عذاب ہیں دونوں
ہائے گالوں کے یہ گلابی بھنور
ایک دم لاجواب ہیں دونوں
عالمِ دو جہاں میں چاند اور وہ
بس یہی ماہتاب ہیں دونوں
ڈوب جاؤں نہ کیوں ان آنکھوں میں
خوبصورت چناب ہیں دونوں
دل تو ہم دونوں کے ہیں خوب مگر
عاشقی میں خراب ہیں دونوں

0
5