جدائی کی کٹھن شب اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے
یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے
پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے ساقیا اب تو
یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے

0
3