یہ بات بتاتے ہوئے اچھا نہیں لگتا
رستہ مرے دل سے ترے دل کا نہیں لگتا
کچھ جنگوں میں اس واسطے بھی میں نہیں جیتا
اپنوں کو ہرانا مجھے اچھا نہیں لگتا
خود سے بھی پرایا ہو گیا ہوں میں اے یارو
اب آئینے میں چہرہ بھی میرا نہیں لگتا
اب زخم اگر لگ بھی کوئی جاتا ہے مجھ کو
گہرا بھی اگر ہوتا ہے گہرا نہیں لگتا
ہم پھولوں کے موسم میں تھے رہتے کبھی پر اب
شاخوں پہ کوئی پھول بھی اچھا نہیں لگتا
دل کے کبھی اندر بھی تو تم جھانک کے دیکھو
ہاں مانا کہ میں چہرے سے پیارا نہیں لگتا
اک جیسے ہی لگتے ہیں یہ چہرے مجھے سارے
اک چہرہ کسی اور کے جیسا نہیں لگتا
اک دن تو اسے بھول ہی جاؤں گا نا عادل
پہلے مجھے لگتا تھا اب ایسا نہیں لگتا

0
5