| دیکھئے کیا واقعہ پھر رونما ہونے کو ہے |
| اب رئیسِ شہر پابندِ وفا ہونے کو ہے |
| دوستوں کی بدگمانی دشمنوں کی تلخیاں |
| کہہ رہی ہے خامشی جنگِ انا ہونے کو ہے |
| آسماں پر مائلِ پرواز جو برسوں رہا |
| پست اُس شہباز کا اب حوصلہ ہونے کو ہے |
| ہوگئے تم تو غمِ دنیا کے ہاتھوں جاں بلب |
| کیا مری بھی زندگی بے آسرا ہونے کو ہے؟ |
| پھر چمکتی ہیں گھٹا کی گود میں چنگاریاں |
| لگ رہا ہے پھر کوئی محشر بپا ہونے کو ہے |
| قاتلانِ وقت کی اک بھیڑ ہے چاروں طرف |
| جانے کیا شہرِ اماں میں حادثہ ہونے کو ہے |
معلومات