یاد تیری کے خزانےکو چُھپاؤں کیسے
چور بیٹھا ہے مِرے مَن میں بَچاؤں کیسے
تِرے معیار پہ آؤں تو مَیں آؤں کیسے
بے وفا دل میں تِرا پیار بَساؤں کیسے
تُو مِرے ساتھ ہے لیکن مَیں تِرے ساتھ نہیں
ساتھ تیرا مِرے ساتھی مَیں نِبھاؤں کیسے
میرے چہرے کو یہ رنگت تِرے رنگوں سے ملی
رنگ تیرا ہے بہت شوخ چُھپاؤں کیسے
تِرے دامن سے جُڑا ہوں تو جُڑا رہنے دو
ہِجر کی رات کا دُکھ درد سُناؤں کیسے
دیکھ پاؤں نہ تُجھے تو تِری دُنیا دیکھوں
تِری دُنیا تِرا پردہ ہے ہٹاؤں کیسے
نیند کو آنکھوں کے نزدیک نہیں آنے دوں گا
دِید تیری کے بِنا ان کو سُلاؤں کیسے
تُو نے شَہوات کی اُلفت میں کَشش رکھی ہے
حرصِ شَہوات کے قیدی کو چُھڑاؤں کیسے
مُطمئن رہتا جو تقدیر پہ اچھا ہوتا
خُود ہی ڈالیں جو لکیریں وہ مِٹاؤں کیسے
بے وفائی کے سَبب ہے یہ سیاہی دل کی
داغ اتنے ہیں مِرے دل پہ دِکھاؤں کیسے
دل کی سختی نے بنایا ہے مجھے ایک صنم
خود کو دہلیز پہ تیری مَیں گراؤں کیسے
پاک ہے نُور ترا اور مِری ذات پلید
نُور کی چھاپ سیاہی پہ لگاؤں کیسے
عشق کی آگ جلاتی ہے وفاؤں کے چراغ
عشق مُجھ کو نہ جلائے تو جَلاؤں کیسے
سانس دیتا ہے سَبھی کو نَفَسِ رحمانی
سانس آتا ہے تِرے دَر سے بتاؤں کیسے
رِند کہتے ہیں پلاؤ ہمیں جامِ وَحدت
جام اَب تک نہ مِلا ہو تو پِلاؤں کیسے
تیرے دربار پہ آیا ہوں بھکاری بن کر
بھیک جب تک نہ ملے گی تو میں جاؤں کیسے
تیری رحمت کے سِوا کوئی سہارا ہی نہیں
بابِ رحمت سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے
راہِ تسلیم میں چُپ ہیں جو تِرے شُکر گُزار
ایسے خاموش فقیروں کو بُلاؤں کیسے
کوئی کہتا ہے مدینے میں "اُٹھاؤ سر کو"
سر ہے محبوبؐ کے قدموں میں اُٹھاؤں کیسے
اپنی صورت میں نظر آتی ہے تیری صورت
ایسے حالات میں صورت کو بُھلاؤں کیسے
میں کہ ہوں خاک کا پتلا تِرا مجبور بھی ہوں
اے مِرے دوست بتا تُجھ کو مَناؤں کیسے

0
34