حوصلے دل میں اگر تم نے جو پالے ہوتے
زندگی تیرے یہ دن رات نہ کالے ہوتے
گر شب و روز کی زلفوں کو سنوارا ہوتا
صحَنِ زیست میں پھیلے نہ یہ جالے ہوتے
خوف سے دل نہ اگر تیرا ہراساں ہوتا
نہ یہ کعبہ نہ کلیسا نہ شوالے ہوتے
عدل کی آنچ پہ چولہا جو جلایا ہوتا
مفلسِ شہر کے منہ میں بھی نوالے ہوتے
غمِ دوراں نے کیا چاک گریباں ورنہ
ہم بھی پیاسے کسی صحرا کے جیالے ہوتے

0