| تم کیا گئے کہ رنگِ خیالوں سے دور ہیں |
| ہم روشنی کے سب ہی حوالوں سے دور ہیں |
| اس کے بغیر کٹ تو رہی ہے مری حیات |
| پر ہم حیات کے سبھی حالوں سے دور ہیں |
| وہ اک جواب کیا ملا، خاموش ہو گئے |
| اب ہم زمانے بھر کے سوالوں سے دور ہیں |
| دل کے قریب رہ کے بھی وہ دل سے دور تھا |
| ہم بھی تو اپنے چاہنے والوں سے دور ہیں |
| اک عمر ہو گئی ہے ترا ہاتھ چھوڑے پر |
| اب تک تمھارے لمس کے ہالوں سے دور ہیں |
| تم آ سکو تو آؤ کہ اب تھک چکے ہیں ہم |
| جینے کے اب تمام مٹھالوں سے دور ہیں |
| وہ مل سکے گا اب ہمیں، عادل؟ گماں نہیں |
| ہم خود ہی اپنے خواب و خیالوں سے دور ہیں |
معلومات