سامنے اس کے ہر اصول گیا
آنکھ ملتے ہی خود کو بھول گیا
روز گھر سے نکل ہی جاتا تھا
گھر سے جانا بھی اب تو بھول گیا
اس نے اتنا کہا کہ سندر ہو
بس یہ سنتے ہی میں تو پھول گیا
میں جو اک پھول لے کے آیا تھا
وہ بھی دینا اسی کو بھول گیا
اس کے اک بار مسکرانے سے
سارا غصہ مرا فضول گیا
سوچ رکھا تھا بات کم ہوگی
وہ ملا تو حساب بھول گیا
اس کے ہاتھوں پہ خون تھا میرا
اس کی بانہوں میں پھر بھی جھول گیا

0
68