| سامنے اس کے ہر اصول گیا |
| آنکھ ملتے ہی خود کو بھول گیا |
| روز گھر سے نکل ہی جاتا تھا |
| گھر سے جانا بھی اب تو بھول گیا |
| اس نے اتنا کہا کہ سندر ہو |
| بس یہ سنتے ہی میں تو پھول گیا |
| میں جو اک پھول لے کے آیا تھا |
| وہ بھی دینا اسی کو بھول گیا |
| اس کے اک بار مسکرانے سے |
| سارا غصہ مرا فضول گیا |
| سوچ رکھا تھا بات کم ہوگی |
| وہ ملا تو حساب بھول گیا |
| اس کے ہاتھوں پہ خون تھا میرا |
| اس کی بانہوں میں پھر بھی جھول گیا |
معلومات