غزل - ڈاکٹر مبشر کنول مہسلائی
چاند آنگن میں اتر آئے، یہی حسرت ہے
آج کی رات سنور جائے، یہی حسرت ہے
تیری مخمور نگاہوں کی قسم جانِ بہار
کوئی بے موت ہی مر جائے، یہی حسرت ہے
تیری زلفوں کی مہک روح کی تسکیں ہے مری
راہ میں یوں نہ بکھر جائے، یہی حسرت ہے
لب ترے چھو لوں تو لفظوں میں چمک آ جائے
میرا ہر شعر نکھر جائے، یہی حسرت ہے
تیرے ہمراہ جو گزریں، انہی لمحوں کے لیے
وقت کچھ دیر ٹھہر جائے، یہی حسرت ہے
دل کی کشتی کو سہارا ہو تری الفت کا
پھر یہ طوفان گزر جائے، یہی حسرت ہے
رخِ روشن کی ضیا پاتے ہی کھل اٹھے کنولؔ
گلشنِ دل میں بہار آئے، یہی حسرت ہے

0
5