| مجھے خبر تھی کہ یہ کائنات کیا شے ہے |
| مگر یہ علم نہ تھا، میری ذات کیا شے ہے |
| وہ جس کے سامنے افلاک بے حجاب ہوئے |
| اسی کے واسطے اپنی حیات کیا شے ہے؟ |
| عجیب ظلم ہے، خواہش کو آگہی دے کر |
| پھر اس کی راہ میں اسباب کی کمی رکھنا |
| کسی کے ذہن میں امکانِ بے کراں رکھنا |
| اور اس کے ہاتھ میں تقدیرِ بے بسی رکھنا |
| عجب نہیں کہ مری تشنگی نہ ختم ہوئی |
| مری طلب کا تعلق حصول سے کب تھا |
| میں اپنی ذات میں اک اور شخص رکھتا تھا |
| جو ہو نہ پایا، مگر اس کو مار بھی نہ سکا |
معلومات