| جو اپنے آپ سے لڑتا رہا نکھر نہ گیا |
| وہ خاک ہی تھا گیا جب تو معتبر نہ گیا |
| چراغ لے کے اندھیروں میں جو اتر نہ گیا |
| وہ لے کے عہد کے چہروں کا پھر اثر نہ گیا |
| کسی کے سامنے جھکنا تو سیکھا تھا میں نے |
| کبھی ضمیر کو میں بیچ کر مگر نہ گیا |
| جو وقت زخم پہ رکھتا رہا نمک ہر دم |
| وہ وقت دیکھا مرے حوصلے سے ڈر نہ گیا |
| میں اپنے درد کو لفظوں میں ڈھالتا ہی رہا |
| وہ کون لفظ تھا آکر یہاں سنور نہ گیا |
| وہ جس نے ہار کے لمحے کو آخری نہ کہا |
| پیام دے کے اسی کا پیام بر نہ گیا |
| ہزار بار مجھے راستے نے روکا مگر |
| مگر میں عزم سے دریا کو پار کر نہ گیا |
| یہ زندگی بھی عجب امتحان تھی طارق |
| جو خود کو پا گیا دنیا سے بے خبر نہ گیا |
معلومات