دل ٹوٹتا ہے آپس کے جھگڑے دیکھ کر
ہو چشم آبدیدہ سب فتنے دیکھ کر
حیران کر کے رکھ دے برتاؤ ناروا
انسانیت کے جھوٹے بھی دعوے دیکھ کر
بے چینی بڑھتی ہے نفرت کے سلوک سے
پھر طبقہ اور فرقہ میں بٹتے دیکھ کر
تکلیف انتہائی درجہ کی ہوتی ہے
کردار کی حقیقت کو گرتے دیکھ کر
روتی ہے روح ناصؔر اسوقت بھی یہاں
ذی ہوش و رتبہ والے بھی چپکے دیکھ کر

0
26