کون بستا ہے اس مکان میں کیا
بس گئے تم مرے گمان میں کیا
خاک اڑتی ہے اب خیالوں میں
رہ گیا ہے مری دکان میں کیا
تیری آواز تھک گئی شاید
زہر گھولوں میں اب بیان میں کیا
ایک ہی حادثہ تو گزرا ہے
تیر ٹوٹا ہے اب کمان میں کیا
ہم تو خود سے بھی کٹ کے بیٹھ گئے
فرق آئے گا خاندان میں کیا
راکھ ہونا ہی میرا حاصل ہے
اور رکھا ہے اس زبان میں کیا
جستجو ہے کہ مر مٹوں اب کے
جان باقی ہے نیم جان میں کیا

0
5