| کون بستا ہے اس مکان میں کیا |
| بس گئے تم مرے گمان میں کیا |
| خاک اڑتی ہے اب خیالوں میں |
| رہ گیا ہے مری دکان میں کیا |
| تیری آواز تھک گئی شاید |
| زہر گھولوں میں اب بیان میں کیا |
| ایک ہی حادثہ تو گزرا ہے |
| تیر ٹوٹا ہے اب کمان میں کیا |
| ہم تو خود سے بھی کٹ کے بیٹھ گئے |
| فرق آئے گا خاندان میں کیا |
| راکھ ہونا ہی میرا حاصل ہے |
| اور رکھا ہے اس زبان میں کیا |
| جستجو ہے کہ مر مٹوں اب کے |
| جان باقی ہے نیم جان میں کیا |
معلومات