ہے حق سے حق میں حق کا ہی رشتہ حسین کا
حق کا ہے سب، حق اس پہ ہے پورا حسین کا
نبیوں کا اک امام تو ولیوں کا اک امام
نانا حسین کا ہے تو بابا حسین کا
نورِ نبی کا، حسنِ علی کا ہے شیدا حق
اور ہو بہو انھیں کا ہے نقشہ حسین کا
یہ شکل کہ زیارتِ انوارِ پنج تن
جلوہ ہی ایسا کچھ ہے نرالا حسین کا
حق کا امام حق پہ تھا، حق ہے، رہے گا حق
ہوگا بھی، ہے بھی، تھا بھی، زمانہ حسین کا
عشق و وفا کا فرش سے تا عرش ہے نشاں
"دونوں جہاں میں اونچا ہے جھنڈا حسین کا "
حق ہی کا عَلم دار، عَلم ہے حسین کا
سب طالبانِ حق پہ ہے سایہ حسین کا
ڈرتا حسین سے ہے ہر اک دور کا یزید
نا حق سے حق جو لیتا ہے بدلہ حسین کا
سرشار و مست ہیں، وہ جو کہتے ہیں "یا حسین"
تسکینِ جان و دل ہے یہ نعرہ حسین کا
ہوگی رِہا بروزِ جزا قومِ مسلِماں
صدقہ حسین کا ہے یہ صدقہ حسین کا
جو کوئی امتی ہے نبی مصطفیٰ کا وہ
پیارا حسین کا ہے دلارا حسین کا
ہوگا رئیس دونوں جہاں میں وہ خوش نصیب
مل جائے جس کسی کو اتارا حسین کا
جس پر ذکؔی چلے ہیں سبھی مرشدانِ حق
رستہ حسین کا ہے وہ رستہ حسین کا

0
6