سمجھ میں آ ہی جائے گا، ہے سادہ فلسفہ میرا
ہے دل میں دلربا میرا، ہے جو کہ ہم نوا میرا
خدا بندوں میں ہے شامل، صدا دیتا ہے بن کر دل
"جہاں میں ڈھونڈتا ہوں میں، ہے کوئی آشنا میرا"
نہ رمزِ دل سے ہو غافل، خدا کی معرفت منزل
یہی کہتا ہے مجھ سے دل، خودی میری خدا میرا
ہے منزل دور سرحد سے، قلندر بن نکل حد سے
خودی میں ڈوب جا خود سے، ملے گا راستہ میرا
اگر خود میں خدا ہے تو، ذکی تم جان لو خود کو
خدا سے آپ خود سن لو، یہ ہے بندہ کَھرا میرا

0
3