ہر گلی ہر گھر سجاؤ یومِ آزادی ہے آج
گیت خوشیوں کے سناؤ یومِ آزادی ہے آج
ہندو مسلم سکھ عیسائی ہاتھ ڈالے ہاتھ میں
جشن آزادی مناؤ یومِ آزادی ہے آج
آسمانِ ہند کا ہر اک ستارہ لاجواب
ساتھ ملکر جگمگاؤ یومِ آزادی ہے آج
اپنے پیارے سے چمن کو سینچنے کے واسطے
اب قدم ملکر بڑھاؤ یومِ آزادی ہے آج
یاد کر لو تم شہیدوں کی ذرا قربانیاں
اپنی نسلوں کو بتاؤ یومِ آزادی ہے آج
دیش کی خاطر کٹا لینا خوشی سے اپنے سر
اپنے بچوں کو سکھاؤ یومِ آزادی ہے آج
تم تو طیب نفرتوں کی آندھیوں کے بیچ میں
پیار کا دیپک جلاؤ یومِ آزادی ہے آج

0
6