گو ہاتھ تو ملائے عداوت نہیں گئی
ہم خاک ہوگئے پہ کدورت نہیں گئی
دل میں خلش ہوتی رہی جو بار بار پر
سلجھاؤ بھی کئے تھے یہ ذلت نہیں گئی
جو کام آئے وقت پہ ساتھی وہی کھرا
دوست جو بھی پرانے تھے رغبت نہیں گئی
کچھ حادثات رونما ایسے بھی ہو چکے
عرصہ گزر گیا ہے یہ وحشت نہیں گئی
ہائے ستم ظریفی کہ مفلوج الحال ہیں
کوشش تو رات دن ہی کی، غربت نہیں گئی
بیدار کب ہونگے سوچیں ناصؔر بھلا کبھی
حالات جھیلے پھر بھی جو غفلت نہیں گئی

0
41