گر رکھا آپ نے نگاہوں میں
آئیں گے تب ہی تو پناہوں میں
حال نا پوچھئے ابھی ورنہ
"رت بدل جائے گی سوالوں میں"
چاند شرمائے، حسین ہے اتنا
یار کی باتیں ہوں ہزاروں میں
شاخ در شاخ مسکراتی ہو
گُل، کلی کِھل اُٹھے بہاروں میں
سوچ اغیار کی پرکھنا ہے
چالیں رہتی چُھپی ہیں چالوں میں
خوف رب کا دلوں میں رکھنا ہے
ورنہ پھنستے رہیں گناہوں میں
ڈھونگ غربت کا بھی نہیں ناصؔر
مفلسی تو چھلکتی چھالوں میں

0
22