مرا سکون چھین کر
رہا جو میری ذات میں
نہ وہ کبھی جدا ہوا
نہ آ سکا حیات میں
دعا بھی اس کے نام کی
گلہ بھی اس کے نام کا
یہی تو فرق رہ گیا
مری تمام بات میں
وہ اپنے نقش چھوڑ کر
گزر گیا کچھ اس طرح
مہک بسی رہی سدا
بچھڑ کے میری ذات میں
کبھی دعا کی شکل میں
کبھی کسی ملال میں
وہ ہر گھڑی بسا رہا
مری ہی کائنات میں
نہ اس نے کچھ کہا کبھی
نہ میں ہی کہہ سکا اسے
یہ عمر یوں ہی ڈھل گئی
دلوں کی واردات میں
میں اپنی ذات اوڑھ کر
بہت دنوں جیا مگر
مجھے وہ لوٹ لوٹ کر
ملا مری ہی ذات میں

0
7