یہ لازم ہے کہ ہر جانب کےقصے کو سنا جائے
تبھی سچائی سے کچھ فیصلہ ان میں کیا جائے
گراہوں خود کی نظروں سے اسے ٹھہراتے ٹھہراتے
مگر اب کے اجازت ہے، جہاں چاہے چلا جائے
میں جس کے واسطے لڑتا رہا سارے زمانے سے
وہی اب مجھ سے رخ موڑے، تو کیسے کیا جائے
ترے بن محفلِ ہستی میں ہر سو بدنمائی ہے
جو اک پل کے لیے آؤ، تو محفل جگمگا جائے
قسم رب کی، تمہارے حسن و صورت کا یہ عالم ہے
اگر کوئی تمہیں دیکھے، مسلسل دیکھتا جائے
جو دل کے پاس رہتا ہے، اگر رنجیدہ ہو جائے
نہ ایسے میں جیا جائے، نہ ایسے میں مرا جائے
کچھ ایسے وہ گئے یونسؔ کہ گھر کے ذرے ذرے سے
نہ ان کی یادیں ہی جائیں، نہ ان کا نقش پا جاۓ

0
27