جب لوگ بھلانے لگتے ہیں
پھر خواب ستانے لگتے ہیں
کیوں ترکِ محبت کرتے ہو
کب اس پہ خزانے لگتے ہیں
تو آ جا تیرے آنے سے
کچھ درد ٹھکانے لگتے ہیں
یہ داغ وفا کے نہیں دھلتے
یہ داغ پرانے لگتے ہیں
تم پاس نہیں جب ہوتے تو
غم آنے جانے لگتے ہیں
عادل ریاض کینیڈین

0
3