دل کو یہ زعم رہا آنکھ سے آنسو نہ گرے
زیر لب ایک تبسم نے کئی راز کہے
ہیبتِ حسن کا غلبہ ہے سبھی پر ایسا
کس کی ہمت ہے کرے پیش یہاں شکوے گلے
ہم کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے
ظلم جتنے بھی ہوئے، ہم نے مروت میں سہے
سچ کہو برق کی زد میں ہے نشیمن اپنا
ہم نے رہنا ہے یہاں کوئی رہے یا نہ رہے
رات کاٹی ہے مناجات میں کمزوروں نے
اب کوئی ، فوقِ بشر ، ہاتھ سے تقدیر لکھے

0
5