| دل کو یہ زعم رہا آنکھ سے آنسو نہ گرے |
| زیر لب ایک تبسم نے کئی راز کہے |
| ہیبتِ حسن کا غلبہ ہے سبھی پر ایسا |
| کس کی ہمت ہے کرے پیش یہاں شکوے گلے |
| ہم کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے |
| ظلم جتنے بھی ہوئے، ہم نے مروت میں سہے |
| سچ کہو برق کی زد میں ہے نشیمن اپنا |
| ہم نے رہنا ہے یہاں کوئی رہے یا نہ رہے |
| رات کاٹی ہے مناجات میں کمزوروں نے |
| اب کوئی ، فوقِ بشر ، ہاتھ سے تقدیر لکھے |
معلومات