| دیکھتے ہی دیکھتے کافی زمانہ ہو گیا |
| میں کبھی شاہدؔ نیا تھا اب پرانا ہو گیا |
| ان کے ہر اک جھوٹ پر سچ کا گماں ہونے لگا |
| اور اپنا سچ بھی آخر اک فسانا ہو گیا |
| وہ تعلق کو فقط اک کھیل سمجھا اور مجھے |
| عشق اس سے کیوں نجانے والہانا ہو گیا |
| میں رہا خاموش تو انجان سب مجھ سے رہے |
| لب ہلے تو میں یہاں پر اک نشانہ ہو گیا |
| دل ہمارا قہقہوں کا ایک مسکن تھا کبھی |
| لٹ لٹا کے آخرش دکھ کا ٹھکانا ہو گیا |
| رفتہ رفتہ گھر ہمارا ریگِ صحرا ہو گیا |
| اور صحراؤں کا موسم اب سہانا ہو گیا |
معلومات