دیکھتے ہی دیکھتے کتنا زمانہ ہو گیا
آئنے میں عکس بھی اپنا پرانا ہو گیا
ان کے ہر اک جھوٹ پر سچ کا گماں ہونے لگا
اور اپنا سچ بھی آخر اک فسانہ ہو گیا
وہ تعلق کو فقط اک کھیل ہی کہتا رہا
اور دل اس کھیل میں کیسا دوانہ ہو گیا
خامشی میں لوگ مجھ سے بے خبر رہتے رہے
لب کھلے تو میں یہاں سب کا نشانہ ہو گیا
دل ہمارا قہقہوں کا ایک مسکن تھا کبھی
درد آیا اور اسی گھر کا ٹھکانا ہو گیا
رفتہ رفتہ گھر کی ویرانی بھی راس آنے لگی
دشت پہلے اجنبی تھا، پھر سہانا ہو گیا

28