| آج پھر سے ہوا غم کے ماروں کا رقص |
| جیسے راتوں کو ہو چاند تاروں کا رقص |
| آج پھر سے محبت نے توبہ ہے کی |
| آج پھر سے ہوا تیری یادوں کا رقص |
| تیری خاطر یہاں اک تماشہ ہوا |
| تیری خاطر ہوا دل کے ہاروں کا رقص |
| آپ مخمل نشیں تھوڑا دیکھیں یہاں |
| رات کے اس پہر بے قراروں کا رقص |
| ہم ہجومِ زماں سے الگ ہو گئے |
| اک تماشہ ہے یہ ہم بے چاروں کا رقص |
| سارے ہنستے رہے پھر بھی چلتا رہا |
| رات بھر اک یہاں غم گساروں کا رقص |
| بعد تیرے مجھے پھر پسند آگیا |
| ڈوبتی شام کے ان نظاروں کا رقص |
معلومات