وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا
فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا
وہ جانتا تھا کہ بھائی ہیں اس کے قبضہ گیر
وراثتوں میں شکستہ مکان تھامے رہا
لڑائی بھائیوں کے بیچ میں عروج پہ تھی
کلامِ پاک کوئی درمیان تھامے رہا
عروج و پستی و ناکامیوں سے گزرا ہوں
تمام عمر تعلق گٹھان تھامے رہا
ہمیں نماز کی فرصت کہاں ملی ہے کبھی
تھکا نہیں ہے مؤذن اذان تھامے رہا
خطا تھی ماںؔ کی بھگتنا پڑا نتیجہ ہمیں
مزہ لگا ہے تو انسان دھان تھامے رہا
مفاد ہم کو تھا حسرتؔ عزیز، چھوڑ آئے
رہا جو گاؤں سو پیچھے کسان تھامے رہا
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۰، ستمبر، ۲۰۲۶

0
3