مضبوط سرکار سے مجبور جمہوریت
مزدور و مفلس سے ہے اب دور جمہوریت
چاروں طرف نور کے وہ رنگ تھے مختلف
کس کے دھویں سے ہوئی بے نور جمہوریت
اپنی الگ دھاک اک سارے زمانے میں تھی
یہ بھی کبھی خوب تھی مشہور جمہوریت
جس جیت نے سب دیا یہ کرسی و تاج بھی
اب ہے اسی جیت سے رنجور جمہوریت
قابل اگر ہے کوئی چاہے جو بھی نام ہو
دیتی تھی موقع اسے بھر پور جمہوریت

0
10