میری ہر بات موافق ہو، ضروری تو نہیں
تیری مرضی کے مطابق ہو، ضروری تو نہیں
مانا ہر ایک کو اخلاص کا پیکر، لیکن
کوئی ان میں نہ منافق ہو، ضروری تو نہیں
اپنا اندازِ بیاں خوب ہو، لیکن ہو سلیس
ہر کوئی واقفِ منطق ہو، ضروری تو نہیں
جو بھی مل جائے اسے اپنا سمجھ لیں کیسے
جو ہے ہمدرد، وہ مشفق ہو، ضروری تو نہیں
اور ہیں اہلِ خرد جو ہیں ابھی گوشہ نشیں
تو ہی اک لائق و فائق ہو، ضروری تو نہیں
ہاتھ میں جگنو، نگاہوں میں ستارے رکھنا
ہر طرف نورِ مشارق ہو، ضروری تو نہیں
اے کنولؔ، سب سے وفا کی نہ توقع رکھنا
ہر کوئی قلب سے صادق ہو، ضروری تو نہیں

0
1