ہو گی پُر رونق یہ دل کی اجڑی بستی ایک دن
رنگ لائے گی مرے عملو ں کی کھیتی ایک دن
اس یقیں سے بھیجتا ہوں در ود انکی ذات پر
وہ بدل دیں گے مرا عنوان ہستی ایک دن
موت سے غافل نہ ہو آجا درِ توّاب پر
موت سے اترے گی تیری ساری مستی ایک دن
ان کی الفت کو بنا لے اے دیوا نے نا خدا
پھر کنارے پر لگے گی تیری کشتی ایک دن
عشق کا اظہار کر اپنے عمل سے اے عتیق
عاشقوں کی صف میں ہو جائے گی بھر تی ایک دن

0
3