| لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں |
| پروئے جتنے محبّت کے ہار کچھ بھی نہیں |
| کیا ہے فیصلہ سردار! تو نے سن کے اُسے |
| کھڑا ہوں میں جو بدن تار تار، کچھ بھی نہیں؟ |
| سمیٹ لے وہ اگر ایک بار آ کے مجھے |
| تمام عمر کیا انتظار کچھ بھی نہیں |
| میں بار بار معالج کو نبض دکھلاؤں |
| کہے غرور سے وہ بار بار، "کچھ بھی نہیں" |
| اکیلا میں ہوں بہت ان کا مان توڑنے کو |
| مقابلے میں اتر آئیں چار، کچھ بھی نہیں |
| نہیں پتہ کہ قِطار البعیر کیا شے ہے |
| ہے ایک کیف سا، لیل و نہار کچھ بھی نہیں |
| کہا ہے کیا تمہیں ایسا کہ تن کے بیٹھے ہو |
| کیا تھا غیروں پہ جو انحصار، کچھ بھی نہیں؟ |
| وہ خود نمائی کو کچھ بولتا ہی رہتا ہے |
| نہیں ہے بات کوئی، میرے یار کچھ بھی نہیں |
| یہ خود پرست سے فنکار روندنے کو ہیں |
| رشیدؔ اب تو ہمیں سازگار کچھ بھی نہیں |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۱۲ اپریل، ۲۰۲۶ |
معلومات