جہاں بھی چمن سے بہارا گیا ہے
گلوں کو زمیں پر دے مارا گیا ہے
ترا نام لے کر زمانے میں ہم کو
محبت کے دکھ سے گزارا گیا ہے
کہاں سے چلے تھے تری جستجو میں
کہاں لا کے ہم کو یوں مارا گیا ہے
گِلے ہیں ہزاروں ہمیں زندگی سے
ہمیں کم سنی میں اجاڑا گیا ہے
بٹی تھی فلک پر نصیبوں کی دولت
ہمارے ہی حق میں خسارا گیا ہے
فخر تھا جنہیں پھر تری قربتوں پر
انہیں کیوں نظر سے اتارا گیا ہے
ہمیں ہم کو ہم سے جدا کرنے والے
بتاؤ بھلا کیا تمہارا گیا ہے
سبھی چومتے تھے یہ ماتھا ہمارا
یوں مرنے پہ ہم کو سنوارا گیا ہے
سخن ور وہی ہے زمانے میں ساغر
جسے دے کے شہرت نکھارا گیا ہے

0
14