| سامنے سب سراب رہنے دو |
| زلف میں بھی گلاب رہنے دو |
| پھر نظر آئے مجھ کو رنگ و بو |
| چہرہ کچھ بے نقاب رہنے دو |
| رات ہے انتظار کی یارو |
| چاند ، تارے ، شراب رہنے دو |
| ہوں میں ترسا ہوا بہاروں کا |
| دولتوں کے حساب رہنے دو |
| خواب ہو یا شباب ہو کوئی |
| چپ میں اپنی جواب رہنے دو |
| منفرد ڈوبنے کا ہے منظر |
| شام ، تم آفتاب رہنے دو |
| خود پسندی کی انتہا ہوں میں |
| بند میری کتاب رہنے دو |
| کیا ضرورت ہے بحث کی ہم کو |
| قسمتوں میں عذاب رہنے دو |
| مجھ کو شاہد پسند ہیں دریا |
| ساتھ سسی ، چناب رہنے دو |
معلومات