بدلتے رہتے ہیں موسم یہاں تو
رہیں تیار بھی ہر دم یہاں تو
ہوائیں جو صبا کی مست چلتی
بدن میں تازگی بے حد بکھرتی
وفا میں گر کبھی ہو آزمائش
کرے نہ کوئی غم کی پھر نمائش
کرن امید کی اندر جگائیں
نئے جذبات و احساسات لائیں
بھلائی سے ہمیشہ رشتہ جوڑے
برائی سے کنارہ کش ہی ہو لے
بنا محنت کے کچھ حاصل نہیں ہے
تھکن جھیلے سوا منزل نہیں ہے
زمانہ یاد ناصر تب ہی کرتا
نمایاں کارنامہ جب ہے دیتا

0
61