کسی بھی عہد کی تاریخ تم اگر لکھنا
ہمارا حال کھنڈر ہے اسے کھنڈر لکھنا
مشینی دور ہے اس میں فراغتیں کم ہیں
کوئی بھی داستاں لکھنا تو مختصر لکھنا
ہنوز جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ لکھو
زمانہ خود ہی سکھا دے گا بے خطر لکھنا
زمیں زمین کی بولی کہاں سمجھتی ہے
زبانِ آہ میں تم آسمان پر لکھنا
یہی بہت ہے کہ محفوظ ذہن و دل میں رہے
عبث ہے نام اسکا سطحِ آب پر لکھنا
غلام قوم ہے سخت امتحان اب درپیش
ہو حق پہ بولنا مشکل تو جھوٹ پر لکھنا

0
2