نظروں سے جو کل گزری ہے تحریر کسی کی
ہر سمت نظر آتی ہے تصویر کسی کی
وا کر گئی ہے مجھ پہ وہ ماضی کے دریچے
شانوں پہ گری زلفِ گرہ گیر کسی کی
احباب سے بھی ملتا ہوں میں عید، ٹھہر کر
مجھ سے ہے ابھی یاد بغلگیر کسی کی
وہ چاہے رہے خود یا کسی اور کو دے دے
دل میرا کہاں! اب ہے یہ جاگیر کسی کی
اک عرصہ ہوا ترکِ تعلق کیے لیکن
پیروں میں مرے اب بھی ہے زنجیر کسی کی
جب قتل ہی ہونا ہے تو کیا فرق پڑے ہے
بھالے ہوں کسی کے یا ہو شمشیر کسی کی
بدلیں گے کبھی میرے بھی حالاءت مبشر
تدبیر بدل سکتی ہے، تقدیر کسی کی

0
48