غزل
ہنر سے سب کے دلوں کو ملا کے رکھتی ہے
بہشت عالیہ گھر کو بنا کے رکھتی ہے
اگرچہ پیار پہ اصرار تو نہیں اس کو
نفیس پلکوں پہ کاجل بنا کے رکھتی ہے
گلاب حُسنِ تبسم پہ رَشک فرمائیں
لطیف کلیاں وہ ایسے سجا کے رکھتی ہے
ہزار بار جو غلطی کریں مرے بچے
وہ مامتا کے پروں میں چھپا کے رکھتی ہے
کٹھن ہو راستہ، مشکل ہزار ہو منزل
جبیں پہ جوت وہ خندہ سجا کے رکھتی ہے
شہاب، عالیہ تم کو عزیز ہے، بیشک
کمال، کاٹھ کا اُلّو بنا کے رکھتی ہے
شہاب احمد
۲۰ ستمبر ۲۰۲۶
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن

0
6