مہلت ملی تو کالی رات سے نکلوں گا
میں جیتوں گا تیری مات سے نکلوں گا
اکثر سوچتا ہوں وہ میرا تھا ہے کہ نہیں
وہ ملے گا تو ان خدشات سے نکلوں گا
میرے ستارے مدت سے گردش میں ہیں
وقت ملا تو پھر ہر گھات سے نکلوں گا
اب میں تری باتوں میں نہیں آنے والا
اب کے میں تیری ہر بات سے نکلوں گا
دیکھ ادب کے قفس میں رہنے دے مجھ کو تو
میں جو بگڑا تو پھر اوقات سے نکلوں گا
رہتا نہیں ہے برا وقت کسی پہ سدا
رب نے چاہا تو ان حالات سے نکلوں گا
کھول کے بند دریچے سوچوں کے ساغر
خود کو ڈھونڈوں گا اپنی ذات سے نکلوں گا

0
4