عجب ہے علم کا سودا، عجب خسارہ ہے
کہ جس نے راز کو پایا، وہ بے سہارا ہے
وہ جس کی آنکھ پہ روشن ہوئے ہزاروں جہاں
اسی کی زیست پہ اک مستقل اندھیرا ہے
میں کائنات کے اسرار کھوجتا ہی رہا
مگر خود اپنی مسرت کا راز پا نہ سکا
ہر ایک عقدۂ ہستی پہ غور کرتا رہا
بس ایک لمحۂ بے فکر میں بتا نہ سکا
یہ کیسا علم ہے، جو مجھ کو مجھ سے دور کرے
یہ کیسی آگہی، جس سے سکون چھن جائے
کہ جس کے بعد نہ ممکن ہو سادہ دل ہونا
نہ آدمی کسی خوش فہمی میں بہل پائے
مگر یہ بھی تو ہے اک آخری سوال مرا
کہ بے خبری کی طرف لوٹنا اگر چاہوں
تو کیا میں اپنے ہی ادراک کی نفی کر کے
وہ شخص رہ بھی سکوں گا جو آج ہوں، یا نہ ہوں؟

0