کوئی اپنے نہ آس پاس ہے سائیں
دل ہمارا اداس ہے سائیں
پہلے ہر ایک یار تھا اپنا
لیکن اب اقتباس ہے سائیں
میرے زخموں کو یوں کھریدیں مت
آپ سے التماس ہے سائیں
میں جسے کچھ پتا نہیں چلتا
وہ زمانہ شناس ہے سائیں
اب محبت سے دور رہتا ہوں
یہ بڑی بدحواس ہے سائیں
راجہ حارث دھنیال

162