| غیب سے رزق کا سامان ہوا چاہتا ہے |
| کون رازق ہے یہ اعلان ہوا چاہتا ہے |
| تجھ سے رکھّا نہ کبھی جس نے تعلّق کوئی |
| تیرا اپنا کوئی انجان ہوا چاہتا ہے |
| بھول بیٹھے تھے کہ امید نہ تھی پورا ہو |
| وصل کا پورا وہ پیمان ہوا چاہتا ہے |
| تو نے جو عشق کیا دیکھ اب اس کے بدلے |
| حسن و احسان تجھے دان ہوا چاہتا ہے |
| جس کے دیدار کو مدّت سے تھیں آنکھیں ترسیں |
| دیکھ اب وہ ترا مہمان ہوا چاہتا ہے |
| ہجر کے زخم سہے سینہ ہے چھلنی تو کہو |
| شادماں ہونے کا امکان ہوا چاہتا ہے |
| سر جھکایا جو مسلسل تو کھُلا رازِ حیات |
| وہ تو خود ہی تری پہچان ہوا چاہتا ہے |
| حوصلہ تجھ میں اگر ہے تو دکھا بن کے نصیر |
| تو قلم ہی کا جو سلطان ہوا چاہتا ہے |
| طارِق اندیشۂ فردا سے نہ گھبرایا کر |
| مہرباں تجھ پہ وہ رحمان ہوا چاہتا ہے |
معلومات