ہم نے بدلی جو روش، گل سے، نشیمن سے گئے
پھوڑے اعضا میں پڑے، من سے گئے، تن سے گئے
آ کے بیٹھے ہیں سرِ راہ گذر، کھیلیں قِمار
کتنے عزت سے گئے، جوئے سبب دھن سے گئے
موڑ آیا ہے حیاتی میں نیا درد لیے
اب کے گھر بار سے، صحرا سے گئے، بن سے گئے
ہائے بے بس کی کہانی ہے بڑی درد بھری
آئے شوشا سے بڑے، زیست گئی، شن سے گئے
پیچ ڈھیلے ہیں ابھی، ذہن پڑا ہے مفلوج
وصل کے لطف گئے، ہجر کی الجھن سے گئے
جھوٹے پیروں کی دغا، توبہ مری، رب کی پناہ
سادہ لوحی کے سبب لوگ یہاں زن سے گئے
عہدِ کہنہ سے کہِیں دور نکل آئے رشیدؔ
پردہ داری تو بڑی بات ہے، چلمن سے گئے
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۲، اکتوبر، ۲۰۲۶

0
2