| کبھی آسماں سے نکلے ہیں نہ تو زمیں سے نکلے |
| میرے قاتل میری ہی آستیں سے نکلے |
| تدبیر بدل دیتی ہے قسمت انساں کی |
| گر تو کوشش کرے تو سورج یہیں سے نکلے |
| مرے مدِ مقابل تھے کئی طوفانِ عالم |
| کتنے قطرے خوں کے میری جبیں سے نکلے |
| حیلے تھے ،بہانے تھے، لاکھوں تدبیریں تھیں |
| میرے دشمن کتنے عزم و یقیں سے نکلے |
| میرے مالک اب کچھ ایسا عطا کر مجھ کو |
| مری نظریں اُسے دیکھیں جہاں وہ وہیں سے نکلے |
| وہ جو اکثر چپکے سے آ کے لگتے ہیں مجھ کو |
| وہ پتھر میرے اپنوں کی آستیں سے نکلے |
| میں ڈٹ کے کھڑا ہوں رَزمِ باطل میں ساغر |
| مجھ کو نہیں ڈر، چاہے دشمن کہیں سے نکلے |
معلومات