مرے روبرو وہ نگار آ گیا
تو بے تاب دل کو قرار آ گیا
ہنسا وہ تو کلیوں کو جوبن ملا
گلوں پر پیامِ بہار آ گیا
نگاہوں سے مستی چھلکنے لگی
بنا مے پیے ہی خمار آ گیا
مرے ہاتھ پر ہاتھ اس نے رکھا
تو جذبوں پہ کیسا نکھار آ گیا
سمٹتے گئے درمیاں فاصلے
وہ بانہوں کا لے کر حصار آ گیا
لبوں سے لبوں کو جو اس نے چھوا
لہو میں مرے اک شرار آ گیا
یہاں شب گزیدہ اداسی رہی
وہاں روشنی کا دیار آ گیا
جھکا سر جو اس کے قدم پر مرا
مری عاشقی میں وقار آ گیا
چلا تیرِ مژگاں یہاں اس طرح
کہ المیر جیسا شکار آ گیا

0
3