نہاں ذرے ذرے میں شمس و قمر ہے
یہ جا ہے مدینہ نبی کا نگر ہے
منور ہیں شام و سحر اس جگہ پر
یہاں ریگ ایسے کہ لعل و گہر ہے
محبت کے نغمے درودوں کے گجرے
سجا کر جو دل میں یہ کرنا سفر ہے
مدینے کے ہر آن تاباں ہیں جلوے
انہی سے فروزاں ضمیرِ دہر ہے
کریں ناز جن پر ملائک یہ نوری
نبی شانِ مرسل وہ خیر البشر ہے
سکھا میرے مولا سلیقہ ثنا کا
نہیں بس میں میرے نہ چاہت مفر ہے
اے محمود اس جا پکڑ عاجزی کو
جو دیکھے دلوں کو وہ اُن کی نظر ہے

0
1
6
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ مدینۂ منورہ کی نورانیت، عظمت اور روحانی برکات کا دل نشیں بیان ہے۔ شاعر نے مدینہ کو ایسا مقدس مقام قرار دیا ہے جہاں ذرّہ ذرّہ نور سے منور، شام و سحر رحمتوں سے معمور، اور خاک بھی لعل و گہر سے زیادہ قیمتی محسوس ہوتی ہے۔ کلام میں درود و محبتِ رسول ﷺ کو زادِ راہِ سفر قرار دیتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ خیرالبشر، محبوبیت اور رفعتِ مقام کو نہایت عقیدت سے خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اختتام پر شاعر نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حسنِ ثنا کی توفیق طلب کرتا ہے اور اپنی انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دلوں کے حال سے حقیقی آگاہی صرف رسولِ اکرم ﷺ کی نگاہِ کرم سے وابستہ ہے۔ مجموعی طور پر یہ نعت عشقِ رسول ﷺ، ادب، عاجزی اور مدینۂ منورہ کی روحانی فضیلت کا مؤثر اظہار ہے۔

0