ہر ایک زخم کو خوشبو بنا رہا ہوں میں
یہ کس کے عشق کا قرضہ چکا رہا ہوں میں
وہ ایک شخص جو ہر بار خواب میں آیا
اسی کو جاگتی آنکھوں سے پا رہا ہوں میں
ہوا نے مجھ سے مرے گھر کا راستہ پوچھا
چراغ بن کے اسے خود بتا رہا ہوں میں
کسی کے ہجر نے دریا بنا دیا دل کو
اسی میں تیرتا اور ڈوبتا رہا ہوں میں
کبھی تھی آئنے نے پھیر لی نگہ مجھ سے
اب آپ اپنا ہی چہرہ چھپا رہا ہوں میں
صدا کسی کی مرے نام سے نہیں آئی
نہ جانے کب سے مگر مسکرا رہا ہوں میں
وہ ایک حرفِ محبت تھا یا کہ تیرا نام
کہ چلتے پھرتے جسے گنگنا رہا ہوں میں
نظر میں گردِ سفر تھی، قدم میں پیاس بہت
سو ہر سراب کو دریا بنا رہا ہوں میں
عجیب لوگ تھے، پتھر کو دل سمجھتے رہے
تو اپنے اشکوں کے گوہر لُٹا رہا ہوں میں
غزل سے ایسا تعلُّق بنا لیا طارِقؔ
سخن کے دشت میں خود چل کے آ رہا ہوں میں

0
6