| سہیلیوں کو جلاتی رہتی ہے |
| جس طرح بن سنور کے آتی ہے |
| ہم بھی چپ چاپ دیکھتے ہیں اُسے |
| وہ بھی نظریں چرا کے جاتی ہے |
| بند کمروں سے سب نکل آئے |
| اب وہ چھت پر ٹہلنے آتی ہے |
| چاہنے والے ہیں بہت اُس کے |
| دیکھئے کس کے پاس جاتی ہے |
| سانول مزاری |
| سہیلیوں کو جلاتی رہتی ہے |
| جس طرح بن سنور کے آتی ہے |
| ہم بھی چپ چاپ دیکھتے ہیں اُسے |
| وہ بھی نظریں چرا کے جاتی ہے |
| بند کمروں سے سب نکل آئے |
| اب وہ چھت پر ٹہلنے آتی ہے |
| چاہنے والے ہیں بہت اُس کے |
| دیکھئے کس کے پاس جاتی ہے |
| سانول مزاری |
معلومات